مواد کا کوڈ۔: 1
ہٹس: 811
تاریخ اشاعت : 23 October 2021 - 16: 32
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سوانح حیات (1)
یہ مسلم حقیقت ہے کہ جناب عدنان تک  پیغمبر اسلام کی نسبت بالکل اسی ترتیب سے ہے لیکن جناب عدنان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام تک  ترتیب اور نام کے اعتبار سے اختلاف پایا جاتا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح حیات  (1)


پیغمبر اسلام ولادت سے ہجرت تک


"بحیرا نے کہا:اس بچے کا مستقبل نہایت ہی درخشندہ و تابناک ہے اس بچے میں پیغمبر موعود کی نشانیاں ہیں جن کے بارے میں آسمانی کتابوں میں عالمی نبوت اور وسیع حکومت کے متعلق خبر دیا گیا ہے ، یہ وہی پیغمبرہے جس کا نام ،جس کے والد کا نام اور اس کے راشتہ داروں کا نام میں نے اپنی دینی کتابوں میں دیکھا اور پڑھا ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کہاں سے طلوع  کرےگا اور کس طرح سے اس کا دین پوری دنیا پر چھا جائے گا۔"


ولادت سے ہجرت تک
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ پر طاائرانہ نظر
حسب و نسب
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آباؤ و اجداد
عبدالله، عبدالمطلب، هاشم، عبدمناف، قصی، کلاب، مره، کعب، لوی، غالب، فهر، مالک، نضر، کنانه، خزیمه، مدرکه، الیاس، مضر، نزار، معد اور عدنان۔
یہ مسلم حقیقت ہے کہ جناب عدنان تک  پیغمبر اسلام کی نسبت بالکل اسی ترتیب سے ہے لیکن جناب عدنان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام تک  ترتیب اور نام کے اعتبار سے اختلاف پایا جاتا ہے۔
مندرجہ بالا افراد تاریخ عرب میں بہت ہی زیادہ مشہور و معروف ہیں اور تاریخ اسلام نے ان میں سے بعض کے حالات کو قلمبند کیا ہے مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہ علیہ السلام اور آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کا کردار تاریخ اسلام کی شناخت میں مکمل طور پر واضح و روشن ہے لیکن چونکہ اس مقالے میں ہمارا مقصد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ہے لہذا اس مقالے میں ان مطالب کو بیان کرنے سے پرہیزکررہے ہیں جن کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتی زندگی سے براہ راست تعلق  نہیں ہے ۔(1)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب حضرت عبدمناف علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ اس طرح سے آنحضرت کا سلسلہ نسب  ماں باپ کی طرف سے دو نسلوں کے بعد ایک ہی سلسلے سے یعنی عبد مناف سے ملتا ہے۔


پیغمبر اسلام کے والد ماجد کی وفات
حضرت عبداللہ علیہ السلام اور حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا نہایت ہی الفت و محبت کے ساتھ  زندگی بسر کررہے تھے، کچھ دنوں بعد حضرت عبداللہ علیہ السلام تجارت کی غرض سے شام روانہ ہوئے اور واپسی کے موقع پر شہر یثرب یعنی مدینہ منورہ میں بیمار پڑ گئے اور کچھ ہی دنوں بعد دار فانی سے رخصت ہوگئے اس وقت  حضرت  آمنہ سلام اللہ علیہا  حاملہ تھیں اور حضرت آدم علیہ السلام کے عزیزترین فرزند یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحم مادر میں پروان چڑھ رہے تھے ،حضرت عبداللہ علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا اور آپ کا پورا کنبہ سوگوار ہوگیا حضرت عبداللہ علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ کی میراث میں صرف پانچ اونٹ، کچھ بکریاں اور " ام ایمن" نامی ایک کنیز تھیں جنہوں نے بعد میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کی ۔


پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت
بے شمار مورخین نے تحریر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت با سعادت ماہ ربیع الاول سنہ پانچ سو ستر عیسوی میں ہوئی اور اس سال کا نام تاریخ نے  " عام الفیل"(2) قرار دیا ہے لیکن اہل تشیع کے راویوں نے لکھا ہے کہ آنحضرت سترہ ربیع الاول جمعہ کے دن پیدا ہوئے ہیں جب کہ اہل تسنن کے محدثین نے تحریر کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بارہ ربیع الاول دوشنبہ کے دن پیدا ہوئے ہیں۔ 

 

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام رکھنا

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت آپ کے والد  کا انتقال ہوچکا تھا  لہذا آپ کی پرورش و تربیت کی ذمہ داری آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے ذمہ تھی، حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے آنحضرت کی ولادت کے ساتویں دن اپنے پوتے کا نام " محمد" رکھا ، جب آپ سے سوال کیا گيا کہ یہ نام تو عرب میں بہت ہی کم سنا گيا ہے آپ نے محمد نام کیوں رکھا ہے؟ تو  آپ نے ان کے جواب میں فرمایا: چونکہ میری خواہش ہے کہ دنیا و آخرت میں ان کی تعریف و تمجید  کی جائے۔
 دوسرے یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ نے آپ کا نام  "احمد" رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے خاندان کے اس نونہال کو زیادہ تر محمد اور کبھی کبھی احمد کے نام سے پکارا جاتا تھا۔  


دودھ پلانے کا زمانہ
عربوں کے درمیان یہ رسم را‏ئج تھی کہ اپنے بچے کو دایہ کے سپرد کردیتے تھے اور دایہ عام طور پر قبیلوں اور صحراؤں میں زندگی بسر کرتی تھیں، فطری سی بات ہے کہ بچے کی تربیت و پرورش جسمانی نشو و نما کے اعتبار سے آلودہ ماحول سے زیادہ صحیح و سالم فضا میں مناسب ہوتی ہے۔ عرب میں جو عورتیں دودھ پلانے اور بچوں کی تربیت وپرورش کرنے کے لئے  ہمیشہ آمادہ و تیار رہتی تھیں وہ حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے گھر آنے لگیں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی آغوش میں دیا گیا مگر آپ نے کسی  بھی عورت کے دودھ کو منھ نہ لگایا مگر ان عورتوں کے درمیان ایک نہایت ہی نحیف و لاغر دایہ کہ جس کا نام "حلیمہ سعدیہ " تھا جیسے ہی انہوں نے پیغمبر اسلام کو آغوش میں لیا اور دودھ  کو منھ میں لگایا آپ فورا ہی دودھ پینے لگے، رئیس مکہ اورخاندان قریش کے بزرگ حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کا پورا کنبہ خوشی و شادمانی سے جھوم اٹھا، حضرت عبدالمطلب علیہ السلام نے اس دایہ سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ  حلیمہ، آپ نے پھر سوال کیا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ  میں قبیلہ " بنی سعد " سے ہوں، یہ سن کر حضرت عبدالمطلب علیہ السلام بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا : سبحان اللہ ، سبحان اللہ  ،دو پسندیدہ عادت اور دو بہترین خصلت اس عورت میں موجود ہے ایک سعادت و خوشبختی اور دوسری حلم و بردباری۔
اس مہربان خاتون نے پانچ برس تک حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش کی اور پھر آپ کو مکہ مکرمہ واپس لے آئیں اور آپ کی والدہ ماجدہ  کی آغوش عطوفت اور آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے سپرد کردیا۔


پیغمبر اسلام کی والدہ ماجدہ کی رحلت
پانچ برس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی مادرگرامی کی آغوش عطوفت میں پروان چڑھتے رہے اور ماں کی الفت و محبت نے اس طرح پروان چڑھایا کہ باپ کی کمی کا  احساس تک نہ ہونے دیا ، اسی زمانے میں آپ کی والدہ ماجدہ نے  یثرب جانے کا ارادہ کیا تا کہ یتیم عبداللہ کو ان کے بابا کی قبرکی زیارت کرائیں ، آپ نے سامان سفر تیار کیا اور اپنے بیٹے محمد اور اپنی کنیزحضرت ام ایمن کے ہمراہ یثرب کی طرف روانہ ہوگئیں ، کچھ دنوں تک آپ نے مدینہ منورہ میں قیام کیا ، حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا دن میں اپنے بیٹے کو لے کر اپنے شوہر نامدار کی قبر کی زیارت کے لئے جایا کرتی تھیں اوران کی جدائی پر خوب گریہ و زاری کرتی تھیں اور اس طرح  اپنے غم کو ہلکا کرتی تھیں اور بچے سے باپ کی جدائی کے احساس کو درد دل بیان کرکے کچھ حد تک کم کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔
یثرب سے واپسی کے موقع پر " ابواء" نامی مقام پرحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب نازنین پر ایک اور کوہ غم آن پڑا، باپ کی رحلت نے جو اپنی تمام الفت و محبت کو بچے کے لئے ماں کی طرف متوجہ کردیا تھا ،اس نے ماں کو بستر بیماری تک پہنچا دیا حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ کی آغوش الفت میں پروان چڑھ رہے تھے اپنی ماں کی موت کا مشاہدہ کیا جس نے آپ کے قلب مبارک  کو بہت ہی زیادہ غمزدہ کردیا ۔ آپ کے والد کی کنیز حضرت ام ایمن سلام اللہ علیہا نے ماں کے انتقال کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے پناہ الفت و محبت کے ساتھ پرورش کی اور آپ کو مکہ مکرمہ واپس لائیں اور آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب  علیہ السلام کے سپرد کردیا۔


حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی وفات
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ قریش کے افراد کے درمیان  خصوصا آل ہاشم،بالخصوص اپنے دادا حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی وجہ سے اس قدر محترم اور باعظمت و بافضیلت شمار ہوتے تھے کہ کہا گيا ہے کہ  لوگ  خانہ کعبہ کے پاس اپنے سربراہ "حضرت عبدالمطلب علیہ السلام " کے لئے فرش بچھاتے تھے اور قریش کے سردار اور ان کی اولادیں فرش کے کنارے حلقہ بنا کر ان کے پاس بیٹھ جایا کرتی تھیں اور جیسے ہی حضرت عبدالمطلب علیہ السلام  کی نظر حضرت عبداللہ علیہ السلام کے یتیم پر پڑتی تو فورا ہی حکم دیتے تھے کہ راستہ خالی کرو تا کہ حضرت محمد  کو اس فر ش پر بٹھائيں جس پر خود بیٹھے ہیں۔ (3)
دوسری جانب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کی وفات کے بعد اپنے دادا حضرت عبد المطلب علیہ السلام کی آغوش عطوفت میں پروان چڑھے اور دو برس تک ان کی آغوش محبت میں زندگی بسر کی لیکن اب تیسری مرتبہ ایک اورعظیم مصیبت سے روبرو ہوئے یعنی ابھی آپ نے اپنی عمر کی آٹھویں بہار میں ہی قدم رکھا تھا کہ اپنے دادا اور سرپرست سےمحروم ہوگئے، حضرت عبد المطلب علیہ السلام کی رحلت نے آپ کو اس قدر متاثر کیا کہ آپ ہمیشہ ان کے فراق میں آنسو بہاتے رہے اور آپ کی الفت و محبت کو کھبی بھی فراموش نہیں کیا ۔   


سوال:
1۔ عیسائي راہب "بحیرا" نے قافلے والوں سےحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں کیا بشارت دی ۔؟
منابع:
 (1) قارئین محترم اگر پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آبا‏ؤ اجداد کی حیات طیبہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  اس سلسلے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں جیسے آيت اللہ العظمی الشیخ جعفرسبحانی دام ظلہ کی کتاب"  فرازہائی از تاریخ پیامبر اسلام" کہ  جس سے ہم نے اپنے اس مقالے میں استفادہ کیا ہے اور بہت سے مقامات پر اس کی اصل عبارت کو تحریر کیا ہے ان کی طرف رجوع کریں۔
(2) عام الفیل یعنی وہ سال جس میں اصحاب فیل کا واقعہ رونما ہوا ہے اور چونکہ اس واقعے کے بارے میں قرآن کریم نے بھی  اشارہ کیا ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کے زمانے میں ہی پیش آیا ہے لہذا اس مقالے میں ہم مختصر طور پر اسے بیان کررہے ہیں:
حبشہ کے پادشاہ نجاشی نے  جب یمن پر قبضہ کرلیا تو یمن کے فاتح سپہ سالار کہ جس کا نام "ابرہہ" تھا  بادشاہ نجاشی کی طرف سے حاکم یمن مقرر ہوا ، ابرہہ نے نجاشی سے( چونکہ نجاشی عیسائی تھا ) زیادہ قربت حاصل کرنے کے لئے یمن کے شہرصنعاء  میں ایک بہت عالیشان گرجا گھر بنوایا اور ارادہ کیا کہ یمن کے عربوں کو کہ جو ہر سال خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے رخت سفر باندھتے اور وہاں پہنچ کر عبادتیں بجا لاتے تھے اس عمل سے باز آجائیں اور صنعاء کے گرجا گھر کی طرف دل لگالیں لیکن کیونکہ مشیت پروردگار یہی ہے کہ لوگ ہمیشہ خانہ کعبہ کی طرف ما‏ئل رہیں یہی وجہ ہے کہ ابرہہ نے لوگوں کو دور کرنے کے لئے جتنی بھی کوششیں کی مگر اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا  بلکہ لوگوں میں خانہ کعبہ کی بہ نسبت شوق و ولولہ اور زيادہ بڑھ گيا۔
ابرہہ نے کہ جو اپنے اس ارادے میں مصمم تھا قسم کھائی کہ کعبہ کوضرور مسمار کردے گا اوراس ارادے کے پیش نظر اس نے ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا اور لشکر کے شروع میں تیز جنگ کرنے والے ہاتھیوں کو قرار دیا اور کعبہ کو مسمار کرنےکے ارادے سے مکہ کی جانب روانہ ہوا  اور  مکہ مکرمہ کے قریب " مغمس" نامی مقام پر پڑا‎ؤ ڈالا  اور حکم دیدیا کہ مکہ کے لوگوں کے اونٹوں ، مویشیوں اور گلہ کو برباد کردیں اور  اس کے ساتھ ہی  ابرہہ کی فوج نے پیغمبر اسلام کے جد امجد قمر البطحاء حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے دو سو اونٹوں کو بھی چرا لیا ، حضرت عبدالمطلب علیہ السلام اپنے چند بیٹوں کے ہمراہ ابرہہ کی چھاؤنی کی طرف روانہ ہوئے ، قریش کے رہبر و سردار کی عظمت  و بزرگي اور ان کے وقار و متانت کو دیکھ کر ابرہہ مبہوت اور آپ کی تعظيم کرنےکے لئے مجبور ہوگيا۔ یہاں تک کہ فورا ہی اپنے تخت سے اترگیا اور حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے ہاتھ کو پکڑکر اپنے بغل میں بٹھایا ، اس کے بعد بڑے ہی ادب واحترام کے ساتھ اپنے مترجم کے ذریعے حضرت عبدالمطلب علیہ السلام سے پوچھا  آپ یہاں کیوں آئے ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ تمہار ے لشکر والوں نے مکہ کے لوگوں کی مویشیوں ، اونٹوں اور ہمارے دو سو اونٹوں کو چرا لیا ہے  تم سے میری درخواست یہ ہے کہ حکم دیدو کہ انہیں ان کے مالکوں کو واپس کردیں، ابرہہ نے کہا کہ آپ کے چہرے کی نورانیت اور عظمت نے میرے دل میں آپ کی عظمت ورفعت کو بہت زيادہ بڑھا دیا ہے  لیکن آپ کی اس معمولی  اور ناچیز درخواست نے آپ کی عظمت و رفعت کو میری نظر میں کم کردیا ہے جب کہ میں نے یہ سوچا تھا کہ آپ میرے پاس اس لئے آ‏ئے ہیں تاکہ مجھے کعبہ کو ویران کرنے کے ارادے سے منع کریں گے ،حضرت عبد المطلب علیہ السلام نے  اس کے جواب میں ایک جملہ ارشاد فرمایا  کہ جو آج بھی صدیاں گذرجانے کے باوجود اپنی عظمت و بلندی کے ساتھ باقی ہے آپ نے فرمایا: " أنا رَبُّ الإبِلِ وَ لِلبَیتِ رَبُّ یُمنِعُه"میں اونٹوں کا مالک ہوں اورخانہ کعبہ کا بھی کوئی مالک ہے جو خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا ،ابرہہ نے نہایت ہی غرور و تکبر سے کہا : اس راہ میں میری کوئی بھی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکے گا پھر اس نے حکم دیا کہ اونٹوں او ر مویشیوں کو ان کے مالکوں کو واپس کردیا جائے۔
حضرت عبد المطلب علیہ السلام مکہ واپس آگئے اور عوام کو دشمن سےنجات دینے کے لئے حکم دیا کہ شہر کو خالی کرکے پہاڑوں اور دروں میں پناہ لے لیں اور خود رات کی تاریکی میں تنہا مسجد الحرام تشریف لائے اور خانہ کعبہ کے پاس پہنچ کر خداوندعالم سے رازو نیاز میں مصروف ہوگئے ، صبح کے وقت جب ابرہہ کا لشکر مکہ کی سمت روانہ ہوا تواچانک ابابیلوں کا ایک لشکر دریا کی سمت سے نمودار ہوا جن کے منقاروں اور پیروں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں تھیں جنہوں نے خداوندعالم کے حکم سے ابرہہ کے لشکر پر کنکریاں برسانا شروع کردیں جس کی بناء پر ان کے سر پھٹ گئے اور بدن کے گوشت چاروں طرف بکھرگئے جب ابرہہ نے اس منظر کو دیکھا تو گھبراکر اپنے باقی بچے ہوئے سپاہیوں کو حکم دیا کہ فورا یمن واپس پلٹ جائیں مگر ابرہہ سمیت اس کے باقی بچے ہوئے افراد راستے ہی میں ابابیلوں کی معمولی سی کنکریوں سے بچ نہ سکے اورجب ابرہہ یمن پہنچا تو اس کے بدن کے گوشت کٹ کٹ کر گرنے لگے اور وہ جہنم واصل ہوگیا،  قرآن کریم نے سورہ فیل میں اس واقعہ کا تذکر ہ کیا ہے۔
 (3) علامہ مجلسی ،بحارالانوارج 15 ص 142
 
دفتر نشر فرهنگ و معارف اسلامی مسجد هدایت
مولف: علی ریخته گرزاده تهرانی

آپ کی رائے
نام:
ایمیل:
* رایے: