مواد کا کوڈ۔: 11
ہٹس: 148
تاریخ اشاعت : 08 August 2022 - 11: 44
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح حیات  (6)
مکہ مکرمہ کے عوام بلکہ جزیزہ عرب کے تمام عرب حج کے زمانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کے مطابق کہ جو ان کے درمیان باقی تھیں حج کو اپنے آباؤواجداد کی باقیماندہ سنت کے عنوان سے بجا لاتے تھے.

 

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح حیات  (6)
 


حج کے زمانے میں قریش کے سرداروں کو دعوت


مکہ مکرمہ کے عوام بلکہ جزیزہ عرب کے تمام عرب حج کے زمانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کے مطابق کہ جو ان کے درمیان باقی تھیں حج کو اپنے آباؤواجداد کی باقیماندہ سنت کے عنوان سے بجا لاتے تھے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس موقع سے استفادہ کیا اور حج کے موقع پر مناسک حج میں شریک ہوتے اور تمام قبیلوں کے سرداروں اور بزرگوں کو دین مبین کی جانب دعوت دیتے تھے ، کبھی کبھی جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گفتگو میں مشغول ہوتے تھے تو اس وقت ابولہب پیچھے سے آکر لوگوں سے کہتا تھا ان کی بات پر یقین نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے آباؤ و اجداد کے مذہب کا سخت دشمن ہے اور ان کی باتیں بے بنیاد ہیں، فطری سی بات ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابولہب کی مخالفت بے اثر نہ تھی کیونکہ دوسرے افراد دل ہی دل میں کہتے تھے اگر ان کا دین صحیح اور مفید و مثمر ثمر ہوتا تو ان کے رشتہ دار یقینا ان سے جنگ نہیں کرتے۔
قبیلہ بنی عامر کا ایک گروہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دین مبین کی تعلیم دی وہ لوگ آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار ہوگئے لیکن شرط یہ رکھی کہ پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد معاشرے کی رہبری ہمارے قبیلے کے پاس ہوگی ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ امور خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جس شخص میں بھی مصلحت دیکھے گا اسے عطا کردے گا (1) تویہ لوگ اسلام قبول کرنے سے باز آگئے اور اپنے وطن واپس آنے کے بعد ایک بزرگ اور روشن خیال بوڑھے شخص سے پورا واقعہ بیان کیا ، اس نے کہا یہ وہی روشن ستارہ ہے جو مکہ مکرمہ سے طلوع ہوا ہے۔ 
یہ تاریخی حقیقت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ امامت کا مسئلہ اور پیغمبر اسلام کی جانشینی کا مسئلہ عوام کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ جس کو چاہیں منتخب کردیں بلکہ یہ عہدہ خداوندعالم کی جانب سے انتصاب اور معین ہوتا ہے البتہ اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بے شمار دلیلیں ہمارے پاس موجود ہیں جسے ہم اس بحث میں بیان کریں گے۔


بیعت عقبہ


پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کے موقع پر مختلف قبیلوں اور مختلف افراد سے ملاقات کی انہیں ملاقاتوں کے درمیان قبلیہ خزرج کے چھ لوگوں سے بھی ملاقات کی جو یثرب سے آئے ہوئے تھے یعنی یہ وہی شہر ہے جو مدتوں بعد پیغمبر اسلام کے داخل ہونے کی بناء پر "مدینہ منورہ  " کہلایا۔
ان چھ افراد پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تبلیغ کا اتنا زيادہ اثر ہوا کہ یہ لوگ یہاں سے واپس جانے کے بعد پیغمبراسلام اور آپ کے مذہب کے بارے میں اس قدر تبلیغ کی کہ یثرب میں کوئی بھی ایسا گھر باقی نہیں بچا تھا جس میں پیغمبر اسلام کا ذکر اور گفتگو نہ ہوتی ہو اور ان تبلیغات کا اثر یہ ہوا کہ یثرب کے بہت سے افراد اسلام کے دامن سے وابستہ ہوگئے اور بعثت کے بارہویں برس بارہ افراد اپنی سواریوں پر سوار ہوکر میدان منی کے قریب پہاڑ کے دامن میں"عقبہ" نامی مقام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کی جو مکہ مکرمہ سے تقریبا پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ بیعت تاریخ اسلام کی سب سے پہلی بیعت تھی جو پیغمبر اسلام اور ان کے درمیان ہوئی تھی ، ان بارہ افراد میں سے مشہور ومعروف افراد اسعد بن زرارہ اور عبادہ بن ثابت تھے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بیعت میں ان افراد سے یہ شرط رکھی تھی کہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک قرار نہیں دیں گے، چوری اور زنا نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے، کسی پربہتان نہیں باندھیں گے اور خیر و صلاح میں رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سےعدول نہیں کریں گے پھر پیغمبراسلام  سے عہد کیا کہ اگر اس بیعت پر پابند رہے تو بہشت ان کے لئے ہوگی اور اگر اس کی مخالفت کی تو پھر خدا کو اختیار ہے کہ انہیں معاف کردے یا ان پرعذاب نازل کردے۔
یہ بارہ افراد ایمان سے سرشار ہوکر مدینہ منورہ کی جانب واپس پلٹ آئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ کچھ مقدار میں پیسہ بھی روانہ کریں تاکہ کوئی شخص انہیں قرآن کریم کی تعلیم دے ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے "مصعب بن عمیر" کو ان کی تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا ۔ مدینہ منورہ کے نو مسلم افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عدم موجودگی میں جمع ہوکر نماز جماعت پڑھتے تھے ۔ (2)


دوسری بیعت عقبہ


مصعب بن عمیر اور ان مسلمانوں کی تبلیغات کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زيارت سے مشرف ہوئے تھے اس قدر مدینہ منورہ میں موثر واقع ہوئیں کہ بہت سے لوگ حج کے زمانے کا شدت سے انتظار کرنے لگے کہ حج  کا زمانہ آئے اور ہمیں حج پر جانا نصیب ہو تا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نزدیک سے زیارت کریں۔ حج کو جانے والا قافلہ کہ جس میں تقریبا پانچ سو افراد موجود تھے ان میں سے تہتر افراد مسلمان تھے جن میں دو عورتیں شامل تھیں مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوا،اس قافلے کے افراد نے مکہ مکرمہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کی اور بیعت کرنے کے لئے آپ سے وقت طلب کیا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرہ ذی الحجہ کی شب میں مقام منی میں بیعت ہوگی یعنی جس وقت سب لوگ سو جائیں گے تو عقبہ کے نیچے گفتگو کریں گے بالآخر تیرہ ذی الحجہ کی رات آگئی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں سے پہلے اپنے چچاحضرت عباس کے ہمراہ عقبہ میں حاضر ہوئے ، رات کا کچھ حصہ گذرچکا تھا مشرکین مکہ نیند کی آغوش میں جا چکے تھے ، مدینہ کے مسلمان یکے بعد دیگرے پوشیدہ طور پر عقبہ آگئے سب سے پہلے جناب عباس نے گفتگو شروع کی اور مسلمانوں سے کہا کہ اگر تم لوگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد اور ان کا دفاع کرنے کی طاقت و توانائی رکھتے ہو تو بیعت کرو ، ان لوگوں نے کہا: ہم اپنے قول و عہد میں صداقت سے کام لیں گے اور اپنے قول پر عمل کریں گے اور راہ پیغمبر میں پورے جذبہ و جانثاری کے ساتھ ثابت قدم رہیں گے ، اس کے بعد ان لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گفتگو کرنے کے لئے خواہش ظاہر کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند آیات کریمہ کی تلاوت فرمائی ، تلاوت الہیہ سن کر ان میں اسلام کے متعلق اور جوش و ولولہ پیدا ہوگيا اور پھر انہوں نے یکے بعد دیگرے  اپنی جگہ سے  اٹھ کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ۔
رات کے سناٹے میں یثرب کے  تہتر مسلمانوں کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی خبر بہت تیزی کے ساتھ مکہ مکرمہ کے عوام کے درمیان پھیل گئی، قریش کے سردار خوف و ہراس سے لرز اٹھے اور جزيرہ عرب کے قلب یعنی یثرب جیسے شہر میں مسلمانوں کا مرکز قائم ہوگیا یہ سن کر آگ بگولہ ہوگئے لہذا فورا ہی تحقیق کرنے میں مصروف ہوگئے اور جب یہ خبر  سچ ثابت ہوئی تو   مدینہ منورہ کے مسلمانوں کے اس گروہ کا پیچھا کیا جو اپنے شہر جانے کے لئے مکہ کو ترک کرچکے تھے لیکن وہ لوگ مکہ مکرمہ کے حکومتی علاقے سے بہت دور نکل چکے تھے۔ (3)


مسلمانوں کی مدینہ منورہ کی جانب ہجرت


اہل مدینہ کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں پر بیعت کی خبر سن کر قریش کے سرداروں نے مکہ مکرمہ کے مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم و ستم کرنا شروع کردیا اور ان لوگوں پر زندگی بسر کرنا اس قدر دشوار کردیا کہ مسلمان یکے بعد دیگرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر شکایتیں کرنا شروع کردیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے جواب میں فرماتے تھے کہ تمہارے لئے یثرب سب سے اچھی جگہ ہے اور تم میں سے ہر شخص نہایت ہی سکون واطمینان کے ساتھ اس علاقے کی طرف ہجرت کرے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان جاری ہونے کے بعد اگر چہ قریش مختلف طریقے سے مسلمانوں کو ہجرت کرنے سے روک رہے تھے اورجیسے ہی متوجہ ہوتے تھے کہ کوئی شخص یثرب کی جانب ہجرت کررہا ہے تو اسے سخت اذیت و تکلیف پہنچاتے تھے یہاں تک کہ بیویوں کو ساتھ لے جانے سے بھی سختی کے ساتھ روک دیتے تھے لیکن قریش کی ہر طرح کی مخالفت اور ظلم و اذیت کے باوجود ہجرت کا سلسلہ اس حد تک جاری رہا کہ مکہ مکرمہ کے مسلمانوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت علی علیہ السلام اور تھوڑے سے اسیر ہونے والے مسلمانوں اور مریضوں کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں بچا اور کچھ دنوں کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ماہ ربیع الاول سن تیرہ بعثت کو مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کی۔


سوال:

 

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدنیہ منورہ کی طرف ہجرت کیونکر پیش آئی۔؟

 

منابع:

1۔ سیره نبویة،ابن هشام ج 1 ص 426
2۔ الکامل فی‎التاریخ " ابن اثیر" ج 2 ص 97
3۔ مناقب " ابن شهرآشوب" ج 1 ص 156و158
 
دفتر نشر فرهنگ و معارف اسلامی مسجد هدایت
مولف: علی ریخته گرزاده تهرانی

آپ کی رائے
نام:
ایمیل:
* رایے: