مواد کا کوڈ۔: 3
ہٹس: 287
تاریخ اشاعت : 04 November 2021 - 11: 41
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازش کرنے کے لئے جلسہ کا انعقاد کہ جو انجام پذیر نہ ہوسکی اور سازشی افراد کہ جن میں بنی عامر کے تین افراد بھی موجود تھے،ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ سب کے سب الہی آفات و بلا میں مبتلا ہوئے اور "اربد" نامی شخص کہ جس نے پیغمبراسلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا صحرا میں اس پر بجلی گری اوروہیں جل کرراکھ ہوگیا۔
"پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " ہجرت سے رحلت تک "

ہجرت کا دسواں سال       

سنہ دس ہجری  قمری  میں رونما ہونے والے بعض اہم واقعات کچھ اس طرح سے ہیں۔
1۔ پوری ملت حجاز اور حجاز کی سرحد سے قریب بے شمار افراد کا اسلام کی طرف راغب ہونا جیسے یمن، یمامہ اور بحرین وغیرہ۔
2۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازش کرنے کے لئے جلسہ کا  انعقاد کہ جو انجام پذیر نہ ہوسکی اور سازشی افراد کہ جن میں بنی عامر کے تین افراد بھی موجود تھے،ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ سب کے سب الہی آفات و بلا میں مبتلا ہوئے اور "اربد" نامی شخص کہ جس نے پیغمبراسلام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا صحرا میں اس پر بجلی گری اوروہیں جل کرراکھ ہوگیا۔
3۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری حج اور مکہ مکرمہ اور اس کے اطراف و جوانب سے دسیوں  ہزار افراد کا شریک ہونا اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خطبے اور اتمام حجت کرنا اور مکہ مکرمہ میں حج کے متعلق تعلیمات پیغمبر اسلام۔
4۔ واقعہ غدیر اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے مکہ مکرمہ سے غدیر خم کی طرف واپسی کے موقع پر حضرت علی علیہ السلام کا جانشین کے عنوان سے منتخب ہونا۔
درحقیقت ہجرت کا دسواں سال ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے الوداع ہونے ، جانشین و رہبر کے معین ہونے ، دین کےکامل ہونے اور اتمام حجت کا سال تھا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روز و شب کی  ناقابل تحمل  زحمتیں اور انتھک محنتوں اور کوششوں کے بعد اپنی رسالت کی عظیم ذمہ داریوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور اس راہ میں کامیاب ہوئے اور کائنات میں دین اسلام کی کامیابی کی راہیں ہموار کیں پورے جزیزۃ العرب  میں اسلام کا پرچم لہرا دیا اور خطہ عرب سے اسلامی انقلاب نکل کر عالمگير بن گیا ،قارئین محترم آئیے اب واقعہ حجۃ الوداع اور غدیر پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں:
آخری حج اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری پیغام
ہجرت کا دسواں سال تھا کہ جب پروردگار عالم کی جانب سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ بنفس نفیس حج کے مناسک انجام دیں  اور جو حج کے احکامات اور اہداف و مقاصد ہیں انہیں لوگوں کے سامنے بیان کریں اور اس سیاسی و عبادی عبادت سے غیر مناسب چیزوں کو دور کریں ، اس حکم کے ملتے ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج پر روانہ ہونے کا اعلان کردیا اور یہ بھی اعلان ہوگیا کہ یہ  پیغمبر اسلام کا آخری حج ہے  اس سال پورے عرب سے لوگوں نے بہت زيادہ تعداد میں شرکت کی ۔ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کہ جو یمن گئے ہوئے تھے  چونتیس قربانیوں اورنجران کے عوام سےوصول کئے جانے والے جزیہ کے ساتھ اثنائے راہ  میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قافلے سے ملحق ہوگئے خود مدینہ منورہ اور اس کے راستے میں ستر ہزار  مسلمان پیغمبر اسلام کے قافلے سے آکر ملحق ہوئے اور مکہ مکرمہ میں تمام مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے زا‏‏ئد ہوگئی اور سب نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مناسک حج انجام دیا ، لبیک اللھم لبیک کی آوازوں  اور توحید کے نعروں سے پورا مکہ مکرمہ ، میدان عرفات اور میدان منی گونج اٹھا ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدان عرفات اور جہاں پر بھی مناسب موقع ملا لوگوں سے خطاب کیا اور خطبے ارشاد فرمائے  اور دین اسلام کے اہم احکامات اور مطالب کو لوگوں کے سامنے بیان کیا خصوصا آپ نے قرآن کریم اور سنت کی پیروی کرنے پر بہت زیادہ تاکید فرمائی  اور آخر میں انگشت شہادت سے آسمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: " خدایا گواہ رہنا کہ میں نے تیرے پیغامات کو لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔" (1)

واقعہ غدیر خم اور انتخاب جانشین

حج کے مراسم ختم ہوئے اور تمام مسلمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصیحت آمیز حکمتوں اور بہترین تعلیمات کی سوغات لے کراپنے اپنے شہروں کی طرف روانہ ہو‏‏گئے  اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوگئے، جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قافلہ سرزمین غدیر خم ( جحفہ سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے  پر) پہنچا اس وقت فرشتہ وحی حضرت جبرئیل امین خداوندعالم کی جانب سےسورہ مائدہ کی سڑسٹھویں آیت لے کر پیغمبراسلام  پر نازل ہوئے :
" يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ  وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ "اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے ۔
درحقیقت صحرائے   غدیر خم ایک ایسا مرکز تھا جہاں سے چار راستے جدا ہوتے ہیں  اور یہی سے حجاز کا راستہ بھی جدا ہوتا ہے یہاں سے ایک راستہ مدینہ منورہ کی سمت ، ایک راستہ عراق کی سمت ، ایک راستہ مصر اور ایک راستہ یمن کی طرف جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خداوندعالم کا پیغام ملتے ہی حکم دیا کہ تمام قافلے والوں کو یہیں پرٹھہرایا جائے اور جو قافلے آگے بڑھ گئے ہیں وہ واپس آجائیں  اور جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کیا جائے اس وقت  لوگوں کی تعداد نوے ہزار  ، ایک قول کی بناء پر ایک لاکھ چودہ ہزار یا بعض قول کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار  تھی اور سب کے سب اس تپتے ہوئے صحرا میں اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون سا اہم پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔
اٹھارہ  ذی الحجہ جمعرات کا دن تھا ، پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے اونٹوں کے کجاؤوں کا منبر بنایا گیا اور صحرائے غدیر کی زمین کو  کنکریوں سے صاف کیا گیا  پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور حمد و ثنائے پروردگار کے بعد تمام لوگوں سے اپنی رسالت کا اقرار لیا  پھر لوگوں کی نظروں نے مشاہدہ کیا کہ اچانک پیغمبر اسلام جھکے اور حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام  کے ہاتھوں کو  پکڑکر اتنا بلند کیا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی تاکہ سب کے سب انہیں دیکھ لیں،اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا: " فمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ"جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ اس جملے کی تکرار کی جب کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ آپ نے چار مرتبہ اس جملے کی تکرار کی، اس کے بعد آپ نے حضرت علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کے لئے دعا کی اور آپ کے دشمنوں پر لعنت وملامت کی ( خدایا: جوشخص بھی علی کو دوست رکھے تو اسے د وست رکھ  اور جو شخص بھی علی سے دشمنی کرے تو بھی اس سے دشمنی رکھ، خدایا: علی کے چاہنے والوں کی مدد فرما اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار فرما اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر یہ مڑیں)اس کے بعد فرمایا :جو لوگ اس وقت موجود ہیں وہ اس ولایت کے پیغام کو جو موجود نہیں ہیں ان تک ضرور پہنچا دیں۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے حجاج کرام جام ولایت غدیری سے مدہوش ہوکر حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے اور رسول خدا کے بعد آپ کے مقام امامت و رہبری پر فائز ہونے کی آپ کو تہنیت و مبارکباد پیش کی ۔(2)
اور اس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سےجانشین منتخب کرنے کے بعد دین اسلام کی تکمیل ہوئی اور جوکچھ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ذمہ داریا ں عائد تھی اسے بحسن و خوبی انجام دیا ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے خطبہ غدیر میں دوچیزوں کے بارے میں خصوصی طور پر وصیت کرتے ہوئے فرمایا ہے :
"میں عنقریب تمہارے درمیان سے رخصت ہوجاؤں گا  اور تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں  جب  تک تم لوگ ان دونوں سے متمسک رہوگے کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے لوگوں نے سوال کیا اے اللہ کے رسول وہ دو گرانقدر چيزیں کیا ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا: پہلی چيز خدا کی کتاب قرآن کریم کہ جو ریسمان وحی سے متصل ہے اور دوسری  چیز میری عترت اور اہل بیت ہیں۔(3)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ وصیت" حدیث ثقلین" کے نام سے مشہور ہے جسے شیعہ اور اہل سنت نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے  اور یہ حدیث تاریخ اسلام کے مسلمات میں سےہے ۔
ابھی مجمع منتشر بھی نہیں ہوا تھا کہ سورہ مائدہ کی تیسری آیت نازل ہوئی :" اَلْیوْمَ أَکمَلْتُ لَکمْ دینَکمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دیناً"آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کر دیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے۔

گیارہويں ہجری کے اہم واقعات

وہ واقعات جو اس سال( محرم و صفر) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں رونما ہو‏ئے  یہ ہیں:
1۔" یمامہ"  میں مسیلمہ بن کذاب کی جانب سے نبوت کا دعو ی کرنا اور پیغمبر اسلام کو خط لکھنا اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کااس کے خط کا جواب دینا ۔
2۔ روم کے لشکر کوروکنے کے لئے  ماہ صفر کے آخر میں "اسامہ بن زید" کی سپہ سالاری میں لشکر کا روانہ کرنا۔
3۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور حضرت علی علیہ السلام کا آپ کو غسل و کفن دے کر دفن کرنا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بستر بیماری پر تھے لیکن آپ کو سب سے بڑی فکر اپنے بعد مسئلہ رہبری کی تھی اور جتنا بھی موقع ملتا اور ممکن ہوا آپ نے اس بارے میں لوگوں سے سفارش کی لیکن اس سال کو ہم نہایت ہی  "نحس" سال قرار دے سکتے ہیں کیونکہ اس میں آفتاب نبوت غروب ہوا لہذا کم سےکم آپ کی جانفشانیوں اور قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرنا چاہیئے بلکہ  آپ کی وصیت پر عمل کرنا چاہیئے مگر ریاست و سرداری کی مادی خواہشات نے ایسا غلبہ پیدا کیا کہ جو واقعہ پیش نہیں آنا چاہیئے تھا وہ بھی  رونما ہوگیا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانگداز  رحلت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی بستر علالت پر ہی تھے اور مدینہ منورہ میں مسئلہ خلافت کے سلسلے میں جو حالات اور سیاست ہورہی تھی اس سےبخوبی آگاہ تھے، ایک دن مدینہ کے بزرگ افراد اور بڑے بڑے صحابہ آپ کی عیادت کے لئے آئے  ہوئے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےاس موقع کو غنیمت شمارکرتے ہو‏ئے فرمایا:" میرے لئے قلم اور دوات لایا جائے تاکہ میں تم سب کے  لئے ایک ایسا نوشتہ تحریرکر دوں جس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگےاس وقت عمر نے کہاکہ" نبی پر بیماری غالب ہو گئی ہے لہذا وہ ہذیان کہہ رہے ہیں کتاب خدا ہ ہمارے لئے کافی ہے ۔
المختصر یہ کہ عمراور بعض دوسرے افراد  کا اختلاف اور رکاوٹ  پیداکرکے نبی کریم کو قلم و دوات نہ دینا اس بات کا باعث بنا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے جانشین کے بارے میں خط نہ لکھ سکے ، ابن عباس اس واقعے سے بہت سخت ناراض ہوئے حالانکہ ان کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری تھا اور بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ  "جمعرات کا دن کیسادردناک دن تھا"۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے موقع پر اور بھی بہت سے واقعات رونما ہوئے  لیکن اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہاں پر انہیں بیان کرنے سے پرہیز کرررہے ہیں۔
ہائے افسوس آخر کار اٹھائيس صفرالمظفر سنہ گیارہ  ہجر قمری کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  ترسٹھ برس کی عمر میں اس دنیائے فانی سے عالم بقاءکی جانب روانہ ہوگئے  ۔آپ کی وصیت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام نے آپ کو غسل دیا ، کفن پہنایا ، آپ کے جنازے پر نماز پڑھی اور آپ کو آپ کے گھر کے اس حجرے میں کہ جو " حجرہ مطہرہ" کے نام سے مشہور اور مسجد النبی کے قریب تھا دفن کردیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سچے ماننے والے عزادار ہوگئے اور ان کے لئے یہ ایام بہت سخت گذرے  کہ ایسے دلسوزو مہربان رہبر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئے خاص کر حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر یہ غم کوہ الم بن کر ٹوٹ پڑا ۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت سے اس قدر غم و اندوہ مجھ پر آن پڑا کہ میرے خیال سے اگر پہاڑوں پر یہ غم نازل ہوتا تو شاید وہ اس کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ "
فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  فرماتے ہیں: "پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت سے میری دادی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  پر اتنا شدید غم و الم ٹوٹ پڑا جس کا اندازہ  خداوندعالم کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔"(4)

سوالات

1۔ ہجرت کے دسویں سال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خدا وندعالم کی جانب سے کس چيز کے انجام دینے کا حکم دیا گيا؟
2۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ غدیر میں خصوصی طور پر کن چیزوں کے بارے میں وصیت فرمائی۔؟
3۔ بستر علالت پر ہونے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کس چیزکی سب سے زیادہ فکر تھی۔؟

حوالہ جات:

1۔ یہ خطبہ بحارالانوار جلد 21 ص 405 پر نقل ہو ا ہے اور اس خطبہ میں پیغمبر اسلام ص اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے پندرہ اہم امور کو بیان کیا ہے۔
2۔ واقعہ غدیر کو تفصیل کے ساتھ کتب اہل سنت ن
ے معتبر حوالوں کے ساتھ اپنی اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے جسے علامہ امینی رحمۃ اللہ علیہ نے الغدیر کی پہلی جلد میں نقل کیا ہے۔
3۔ مسند احمد بن حنبل جلد 3 ص 17 و 59، صحیح مسلم جلد 2 ص 38 ، صواعق محرقہ ص 91، تفسیر فخر رازی  جلد 3 ص 24
4۔ انوار البهیہ فی تواریخ الحجج الالهیہ، محدث قمی ، رحلت پیغمبر
 
مولف: حجت الاسلام آقای شیخ محمد محمدی اشتہاردی

آپ کی رائے
نام:
ایمیل:
* رایے: