مواد کا کوڈ۔: 5
ہٹس: 50
تاریخ اشاعت : 26 June 2022 - 22: 57
حضرت پیغمبر اسلام(ص) کی سوانح حیات (۳)
ایک دن پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسب معمول پروردگارعالم کی عبادت میں مصروف تھے کہ فرشتہ وحی حضرت جبرئیل امین قرآن کریم کی بتدائی آیتیں لے کر نازل ہوئے، یہ آیتیں سورہ علق کی پانچ ابتدائی آيتیں ہیں،یہ وہی فرشتہ وحی ہیں جو ایک مخصوص شکل میں ظاہرہوئے اور کہا

حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح حیات  (۳)


آغاز وحی
مکہ مکرمہ  کے شمال میں "نور" نامی ایک پہاڑ واقع ہے جس کی بلندی کی آخری حد  پر آدھے گھنٹے کی مدت میں پہنچاجاسکتا ہے،ظاہری طور پر یہ پہاڑ کالے پتھراور تختے کی شکل میں تشکیل پایا ہے جس میں ذرہ برابر بھی حیات کے آثار نہیں پائے جاتے تھے، اس پہاڑ کے شمال کی سمت میں " حرا " نامی ایک غار ہے جس کی بلندی ایک انسان کے قد کے برابر ہےاور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے خداوندعالم کی عبادت و پرستش کے لئے منتخب کیا تھا اور غالبا منصب رسالت پر فائز ہونے سے پہلے آپ وہاں پر عبادت کرتے تھے اور رمضان المبارک کے پورے مہینے وہیں عبادت و قیام میں مصروف رہا کرتے تھے،رمضان المبارک کے علاوہ بھی آپ وہاں کبھی کبھی عبادت کے لئے جایا کرتے تھے ،یہاں تک کہ آپ کی شریکہ حیات بھی اس بات سے واقف تھیں کہ جب آپ گھر نہیں آتے تھے توانہیں یقین ہوجاتا تھا کہ آپ غار حرا میں مشغول عبادت ہیں۔
ایک دن پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسب معمول پروردگارعالم کی عبادت میں مصروف تھے کہ فرشتہ وحی حضرت جبرئیل امین قرآن کریم کی بتدائی آیتیں لے کر نازل ہوئے، یہ آیتیں سورہ علق کی پانچ ابتدائی آيتیں ہیں،یہ وہی فرشتہ وحی ہیں جو ایک مخصوص شکل میں ظاہرہوئے اور کہا: پڑھیئے، پیغمبر اسلام نے فرمایا :کیا پڑھیں؟ اورکہاں سے پڑھیں؟ ( یعنی فرشتہ وحی کا ارادہ تھا  کہ جو کچھ بتدرج تیئس برسوں میں ظاہری طور پر اور زمانے اور مقام  کے لحاظ سے آپ پر نازل ہوچکا ہے جو پہلے ہی سے آپ کے سینے پر درج ہوچکا ہے اس اعتبار سے پیغمبراسلام نے سوال کیا کہ کہاں سے پڑھیں؟ )فرشتہ وحی نے دوبارہ کہا کہ اے محمد اپنے پروردگارکے نام سے  پڑھیئے کہ جو بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی اور انسانوں کو وہ سب کچھ بتادیا جو اسے نہیں معلوم تھا۔(1) اوریہ  وہی بعثت کا دن تھا  اور مورخین کے نقل کرنے کے مطابق ماہ رجب المرجب کی ستائيسویں تاریخ تھی اور یہ واقعہ سال عام الفیل کے چالیس روز بعد پیش آیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حرا سے باہر تشریف لائے  جب کہ آپ کے چہرہ اطہر سے مستقل نور رسالت ساطع ہورہا تھا  آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے نکل کر سیدھے اپنی شریکہ حیات حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کے گھر گئے جیسے ہی حضرت خدیجہ علیہا السلام کی نظر آپ کے چہرہ اقدس پر پڑی اور نورانیت کا مشاہدہ کیا  تو آنحضرت سے پوچھا  یہ کیسا نور ہے  جسے میں آپ کے چہرے پر مشاہدہ کر رہی ہوں ؟آپ نے فرمایا: اے خدیجہ یہ نور پیغمبر ہے یہ سنتے ہی فورا آپ نے تصدیق کی لہذا عورتوں کے درمیان پیغمبراسلام پر سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ہیں اور خود مولائے متقیان کے قول اور مورخین کی تحریر کے مطابق مردوں میں سب پہلے پیغمبر اسلام کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالب علیہمالسلام نے پیغمبراسلام کی رسالت کی تصدیق کی۔(2)عرصہ دراز تک یہ تینوں افراد یعنی پیغمبر اسلام ، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک مقام  پرعبادت پروردگار انجام دیتے رہے  اور عوام میں سے کوئی بھی شخص اس نماز جماعت  میں شریک نہیں ہوا ۔ مورخین  نے مندرجہ   ذیل واقعہ کو عفیف کندی سے نقل کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ:
زمانہ جاہلیت میں میں مکہ مکرمہ آیا اور میرے میزبان" حضرت عباس بن عبدالمطلب " تھے،  ہم لوگ  خانہ کعبہ کے پاس  بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم لوگوں نے دیکھا کہ ایک  شخص کعبہ کے پاس آيا اوراس کے سامنے کھڑا  ہوگیا، اس کے کچھ ہی  دیر بعد ایک لڑکے کو دیکھا کہ جو اس کے داہنے جانب کھڑا ہوگيا ، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ ایک عورت آئی اور ان لوگوں کے پیچھے کھڑی ہوگئی ، ان تینوں لوگوں نے ایک ہی ساتھ رکوع اور سجدے کئے یعنی نماز پڑھی ، اس نئے منظر نے مجھے تحقیق و جستجو کرنے پر مجبور کردیا ، میں نے اپنے میزبان عباس بن عبدالمطلب سے اس واقعہ کے بارے میں پوچھا  تو انہوں نے کہا: وہ  میرے بھائی کے فرزند محمد بن عبداللہ  ہیں اور وہ ان کے چچا زاد بھائی علی اور وہ  عورت  جو ان  لوگوں کے پیچھے ہے وہ محمد کی شریکہ حیات خدیجہ ہیں،اس کے بعد عباس بن عبد المطلب نے کہا : کہ میرے بھتیجے کا کہنا ہے کہ  ایک دن ایسا آئے گا جب "قیصر " و"  کسری "کا تمام خزانہ میرے اختیار میں ہوگا  لیکن خدا کی قسم ان تینوں افراد کے علاوہ کوئی بھی شخص روئے زمین پراس مذہب کی پیروی کرنے والا نہیں تھا۔ اس کے بعد راوی کہتا ہے کہ میری تمنا و خواہش یہی تھی کہ اے کاش ان کا چوتھا فرد میں ہوتا ۔ (3)


خفیہ تبلیغ،  دعوت ذوالعشیرہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعثت کے بعد تین برس تک خفیہ تبلیغ کرتے رہے اور لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتے رہے اور اس مدت میں عام لوگوں پر توجہ دینے کے بجائے مخصوص افراد کی تربیت کرتے رہےاور پوشیدہ طورپرمختلف گروہوں کو اپنے مذہب کی طرف بلاتے رہے  لیکن تین برس کی مدت گذر جانے کے بعد پروردگارعالم نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی:" وَ اَنـْذِرْعَشیرَتَکَ الاَقـْرَبینْ"۔(4)"اے پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے" اور حکم دیا کہ اپنے اعزہ و احباب کو توحید کی دعوت دیجئے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو کہ  جن کی عمر اس وقت دس برس تھی حکم دیا کہ لوگوں کے لئے کھانا  تیار کریں اور تمام بنی ہاشم کے سرداروں کو کہ جن کی تعداد پینتالیس تھی دعوت دیں ،سب کے سب حاضر ہوگئے، سب نے سیر ہوکر کھانا کھایا ، کھانے کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارادہ کیا کہ اس راز کو سب پر ظاہر کریں  لیکن افسوس تو یہ کہ جیسے ہی آپ نے گفتگو کرنا چاہا آپ کے ایک چچا " ابو لہب" نے بغیر سوچے سمجھے یہ کہہ دیا کہ  یہ تو جادو گر ہے اور لوگ منتشر ہوگئے ۔ اس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ نہیں کہا اور مصلحت دیکھ کر گفتگو کو دوسرے دن تک کے لئے ملتوی کردیا ، دوسرے دن پھرآپ نے ان لوگوں کو دعوت دی اور کھانے کا بالکل ویسے ہی انتظام کیا جب سب کے سب سیر ہوگئے تواس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالمطلب کی اولادوں کی طرف رخ کیا اور خداوندعالم کی حمد و ثناء اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا اور اس کے بعد فرمایا:خدا کی قسم مجھے عرب میں کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آیا جو مجھ سے بہتر تم لوگوں کے لئے پیغام لایا ہو، میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی نیکیاں لایا ہوں  اور اس خدائے یکتا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم لوگوں کو  توحید کی طرف دعوت دوں ، تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میری مدد کرے گا وہ تمہارے  درمیان میرا بھائی، وصی اور میرا جانشین ہوگا ۔
جب گفتگوکا سلسلہ اس مرحلے تک پہنچا تو پورے مجمع پر سناٹا چھایا رہا اور کسی نے بھی جواب نہیں دیا، حضرت علی علیہ السلام کہ جن کی عمر اس وقت دس برس تھی  سناٹے کو توڑتے ہوئے اٹھے اور عرض کیا:اے پیغمبرخدا، میں آپ کی نصرت و حمایت کے لئے تیار ہوں مگر پیغمبر اسلام ص اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی تم بیٹھ جاؤ، آنحضرت نے تین مرتبہ اسی بات کی تکرار کی لیکن حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی نے بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز پر لبیک نہیں کہا اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کی طرف رخ کرکے فرمایا: اے لوگو یہ جوان میرا بھائی ، وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے لہذا اس کی باتوں کو غور سے سنو اور اس کے حکم پر عمل کرو ، یہ سن کر قوم کے سب لوگ مذاق اڑاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت ابوطالب علیہ السلام سے کہنے لگے تمہیں اپنے بیٹے کی اطاعت کا حکم دیا گيا ہے اور ان کو تمہارا بزرگ قرار دیا گيا ہے۔(5)
ہم نے اس مختصر سے مقالے میں جو کچھ تحریر کیا ہے وہ ایسے طویل موضوع کا خلاصہ ہے  جسے بہت سے مفسرین اور مورخین نے بے شمار اور مختلف عبارتوں میں نقل کیا ہے۔(6)اور کسی نے بھی اس حدیث کے بارے میں شک نہیں کیا ہے اور سب نے اسے تاریخ اسلام کے ایک مسلم واقعہ کے عنوان سے اپنی اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے۔


سوالات:
1۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
2۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والے مرد و عورت کون تھے۔؟


منابع:
1۔ سوره علق آیت 1تا5
(2) البتہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا سے پہلے ایمان لائے تھے کہ جس پر بے شمار اقوال موجود ہیں خصوصا آپ کا یہ قول کہ میں نے سات برس تک آواز سنا اور نورکو دیکھا اور پیغمبراسلام اس زمانے میں خاموش تھے۔"نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ" اور بعض زیارتوں میں آپ کو مخاطب کرتے ہوئے آیاہے " آپ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔ (من لایحضره الفقیه، ج 2 ص 592)
(3)أسدالغابة  "ابن اثیر" ج 3 ص 414
(4) سوره شعراء آیت 214
(5)مسند احمد بن حنبل ج 1 ص 111
(6) اس واقعہ کو صرف ابن تیمیہ نے نقل نہیں کیا ہے اور یہ صرف مخصوص عقائد کی وجہ سے ہے جو اہل بیت پیغمبر کے بارے میں رکھتا ہے۔
 
دفتر نشر فرهنگ و معارف اسلامی مسجد هدایت
مولف: علی ریخته گرزاده تهرانی

آپ کی رائے
نام:
ایمیل:
* رایے: